اسے کہنا محبت یوں بھی ہوتی ہے مہینوں رابطہ نہ ہو بھلےبرسوں قبل دیکھا ہو ہم نے ایک دوجے کو مگر پھر بھی سلامت ھی یہ رہتی ہے یہ برگ و بار لاتی ہے اسے کہنا مجھے اس سے محبت ہے کہ جیسے پھول کا خوشبو سے اک انجان رشتہ ہے اسے کہنا محبت میں کبھی وہ پھول بن جائے کبھی خوشبو وہ بن جائے اسے کہنا محبت میں ہے کوئی تیسرا بھی جو محبت کی وجہ بھی ہے کہ جس پھوٹتے ہیں پیار کے سارے ہی سرچشمے اسے کہنا کہ دنیا میں نہ جانے کب ملیں گے ہم مگر روز حشر ہم ساتھ ہوں گے عرش کے نیچے ہاں اس کے عرش کے نیچے جو میرا اور تمہارا اور محبت کا خدا بھی ہے
Comments
Post a Comment