ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ، ﺟﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﻨﮑﺸﻒ ھﻮ ﮔﯽ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﻭھﯽ ﺍﮎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ، ﺗﻌﻠّﻖ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ
ھﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ھﻮﺗﮯ ھﯿﮟ ، ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﻟﮑﮭﺎ ھﮯ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ، ﻋﺠﯿﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﭘﻠﭩﻨﺎ ھﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ، ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ھﻤﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﻧﮧ ﺧﻮﺵ ﺍﺗﻨﺎ ، ﻟﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺳﮯ
ھﻤﺎﺭﯼ ﺁنکھ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﮯ ھﺰﺍﺭﻭﮞ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺗﮭﮑﮯ ھﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﮕﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺻﺪﺍ ﺳﻦ ﮐﺮ
ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭘﺎ ﭼﻠﮯ آئے ، ھﻤﺎﺭﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
Prince Edward, Duchess Sophie react to tram ride in Portugal
Breaking news: Duchess Sophie and Prince Edward enjoyed a ride in the iconic yellow tram outside the city’s famous Estrela Garden, where th...
Ehsas e gham
محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی
تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی
تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار
یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی
پرساں نہ تھا کوئ تو یہ رسوائیاں نہ تھیں
ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی
ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا
درماں نہ تھا تو ماتمِ درماں نہ تھا کبھی
دن بھی اُداس اور مری رات بھی اداس
ایسا تو وقت اے غمِ دوراں نہ تھا کبھی
دورِ خزاں میں یوں مرا دل بے قرار ہے
میں جیسے آشناۓ بہاراں نہ تھا کبھی
کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی
بے کیف و بے نشاط نہ تھی اس قدر حیات
جینا اگرچہ عشق میں آساں نہ تھا کبھی
تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی
تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار
یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی
پرساں نہ تھا کوئ تو یہ رسوائیاں نہ تھیں
ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی
ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا
درماں نہ تھا تو ماتمِ درماں نہ تھا کبھی
دن بھی اُداس اور مری رات بھی اداس
ایسا تو وقت اے غمِ دوراں نہ تھا کبھی
دورِ خزاں میں یوں مرا دل بے قرار ہے
میں جیسے آشناۓ بہاراں نہ تھا کبھی
کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی
بے کیف و بے نشاط نہ تھی اس قدر حیات
جینا اگرچہ عشق میں آساں نہ تھا کبھی
کچھ تو ہم بھی لکھیں گے
کچھ تو ہم بھی لکھیں گے کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ، جب خیال آئے گا
ظلم ، جبر ، صبر کا جب سوال آئے گا
عقل ہے، شعور ہے پھر بھی ایسی بے فکر
تب کی تب ہی دیکھیں گے جب زوال آئے گا
یوں تو ہم ملائک ہیں ، بشر بھی کبھی ہونگے
دُسروں کے دُکھ پہ جب ملال آئے گا
لہو بھی رگوں میں اب جم سا گیا ہے کچھ
آنکھ سے بھی ٹپکے گا جب اُبال آئے گا
دیکھ مت فقیروں کو اس طرح حقارت سے
آسمان ہلا دیں گے جب جلال آئے گا
پگڑیاں تو آپ کی بھی ایک دن اُچھلیں گی
آپ کے گناہوں کا جب وبال آئے گا
شاعری ابھی ہمارے دل کی بھڑاس ہے
بالوں میں جب سفیدی ہو گی کمال آئے گا
جس کو مجھ سے کہنا ہے ، جو کچھ بھی ، ابھی کہ دو
خاک جب ہو جاؤں گا تب خیال آئے گا ؟
آج کل کے مسلم بھی فرقہ فرقہ پھرتے ہیں
ایک یہ تبھی ہوں گے جب دجال آئے گا
ظلم ، جبر ، صبر کا جب سوال آئے گا
عقل ہے، شعور ہے پھر بھی ایسی بے فکر
تب کی تب ہی دیکھیں گے جب زوال آئے گا
یوں تو ہم ملائک ہیں ، بشر بھی کبھی ہونگے
دُسروں کے دُکھ پہ جب ملال آئے گا
لہو بھی رگوں میں اب جم سا گیا ہے کچھ
آنکھ سے بھی ٹپکے گا جب اُبال آئے گا
دیکھ مت فقیروں کو اس طرح حقارت سے
آسمان ہلا دیں گے جب جلال آئے گا
پگڑیاں تو آپ کی بھی ایک دن اُچھلیں گی
آپ کے گناہوں کا جب وبال آئے گا
شاعری ابھی ہمارے دل کی بھڑاس ہے
بالوں میں جب سفیدی ہو گی کمال آئے گا
جس کو مجھ سے کہنا ہے ، جو کچھ بھی ، ابھی کہ دو
خاک جب ہو جاؤں گا تب خیال آئے گا ؟
آج کل کے مسلم بھی فرقہ فرقہ پھرتے ہیں
ایک یہ تبھی ہوں گے جب دجال آئے گا
اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا
آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا
شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا
دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا
اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس
کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا
جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا
اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا
احمدفراز
ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا
آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا
شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا
دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا
اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس
کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا
جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا
اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا
احمدفراز
بازوؤں کی چھـتری تھی
بازوؤں کی چھـتری تھی بازوؤں کی چھـتری تھی راستوں کی بارش میں
بھیگ بھیگ جـــاتے تھے دھڑکنوں کی بارش میں
اور ہی زمـــــانہ تھا اور ہی تھے روز و شب
مجھ سےجب ملاتھا وہ چاہتوں کی بارش میں
بھیگتی ہوئی ســـــانسیں ، بھیگتے ہوۓ لمحے
دل گداز رم جھم تھی خوشبوؤں کی بارش میں
بجــــلیاں چمکتی تھیں ، کھــڑکیاں دھڑکتی تھیں
ایک چھت کے نیچے تھے دو دلوں کی بارش میں
شـــــــام تھی جدائ کی اور شب قیامت کی
جب اسے کیـــا رخصت آنسوؤں کی بارش میں
دل پـــــــہ زخم ہے کوئی روح میں اداسی ہے
کتنے درد جاگے ہیں سسکیوں کی بارش میں
شہر ِ کج نگاہاں میں کون خوش نظر نکلا
پھول کس نے پھینکا ہے پتّھروں کی بارش میں
بـــــــرق سی لپکتی تھی ، روشنی نکلتی تھی
رات کے اندھیرے سے ان دنوں کی بارش میں
ہم تو خیر ایسے تھے، راستے میں بیٹھے تھے
تم کہاں سے آ نکلے اس غموں کی بارش میں
کــــر چیاں سمیٹیں اب زخم زخم پوروں سے
کچھ نہیں بچا فوزی پتھــــروں کی بارش میں
بھیگ بھیگ جـــاتے تھے دھڑکنوں کی بارش میں
اور ہی زمـــــانہ تھا اور ہی تھے روز و شب
مجھ سےجب ملاتھا وہ چاہتوں کی بارش میں
بھیگتی ہوئی ســـــانسیں ، بھیگتے ہوۓ لمحے
دل گداز رم جھم تھی خوشبوؤں کی بارش میں
بجــــلیاں چمکتی تھیں ، کھــڑکیاں دھڑکتی تھیں
ایک چھت کے نیچے تھے دو دلوں کی بارش میں
شـــــــام تھی جدائ کی اور شب قیامت کی
جب اسے کیـــا رخصت آنسوؤں کی بارش میں
دل پـــــــہ زخم ہے کوئی روح میں اداسی ہے
کتنے درد جاگے ہیں سسکیوں کی بارش میں
شہر ِ کج نگاہاں میں کون خوش نظر نکلا
پھول کس نے پھینکا ہے پتّھروں کی بارش میں
بـــــــرق سی لپکتی تھی ، روشنی نکلتی تھی
رات کے اندھیرے سے ان دنوں کی بارش میں
ہم تو خیر ایسے تھے، راستے میں بیٹھے تھے
تم کہاں سے آ نکلے اس غموں کی بارش میں
کــــر چیاں سمیٹیں اب زخم زخم پوروں سے
کچھ نہیں بچا فوزی پتھــــروں کی بارش میں
آنکھ میں خواب نہیں
آنکھ میں خواب نہیں آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں
کنج لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں
ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے
اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں
بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح
اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں
آنکھ بھر نیند میں کیا خواب سمیٹیں کہ ابھی
چاندنی رات نہیں رات کی رانی بھی نہیں
لیلی حسن ذرا دیکھ ترے دشت نژاد
سر بسر خاک ہیں اور خاک اڑانی بھی نہیں
کچے ایندھن میں سلگنا ہے اور اس شرط کے ساتھ
تیز کرنی بھی نہیں آگ بجھانی بھی نہیں
اب تو یوں ہے کہ ترے ہجر میں رونے کے لئے
آنکھ میں خون تو کیا خون سا پانی بھی نہیں
کنج لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں
ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے
اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں
بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح
اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں
آنکھ بھر نیند میں کیا خواب سمیٹیں کہ ابھی
چاندنی رات نہیں رات کی رانی بھی نہیں
لیلی حسن ذرا دیکھ ترے دشت نژاد
سر بسر خاک ہیں اور خاک اڑانی بھی نہیں
کچے ایندھن میں سلگنا ہے اور اس شرط کے ساتھ
تیز کرنی بھی نہیں آگ بجھانی بھی نہیں
اب تو یوں ہے کہ ترے ہجر میں رونے کے لئے
آنکھ میں خون تو کیا خون سا پانی بھی نہیں
یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں
یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے
جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے
یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے
اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے
جگر مراد آبادی
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے
جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے
یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے
اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے
جگر مراد آبادی
اے خُدا معذرت
اے خُدا معذرت مَیں جہاں تھا وہیں رہ گیا، معذرت
اے زمیں معذرت ! اے خُدا معذرت
کچھ بتاتے ھوئے، کچھ چُھپاتے ھوئے
مَیں ھَنسا، معذرت ! رُو دیا، معذرت
خُود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ھے اور
خُود سے کی ھے تمھاری جگہ معذرت
جو ھوا، جانے کیسے ھوا، کیا خبر
ایک دن مَیں نے خود سے کہا، معذرت
ھم سے گِریہ مکمل نہیں ھو سکا
ھم نے دیوار پر لکھ دِیا، معذرت
مَیں بہت دُور ھوں، شام نزدیک ھے
شام کو دو صدا، شکریہ ! معذرت
اے زمیں معذرت ! اے خُدا معذرت
کچھ بتاتے ھوئے، کچھ چُھپاتے ھوئے
مَیں ھَنسا، معذرت ! رُو دیا، معذرت
خُود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ھے اور
خُود سے کی ھے تمھاری جگہ معذرت
جو ھوا، جانے کیسے ھوا، کیا خبر
ایک دن مَیں نے خود سے کہا، معذرت
ھم سے گِریہ مکمل نہیں ھو سکا
ھم نے دیوار پر لکھ دِیا، معذرت
مَیں بہت دُور ھوں، شام نزدیک ھے
شام کو دو صدا، شکریہ ! معذرت
دکھ
دکھ
کہتا ہے ایک دن مجھ سے
بڑا دکھ ہے مجھے
میں نے پوچھا
کس بات کا دکھ؟
کہتا ہے بس کچھ ہے
میں نے پوچھا
کھانا پیٹ بھر کر کھاتے ہو؟
کہتا ہے ہاں
پھر پوچھا
کوئی بیماری تو نہیں؟
کہتا ہے نہیں
پھر پوچھا اعضاء سلامت ہیں؟
کہتا ہے ہاں
سر پہ چھت ہے؟
کہتا ہے ہاں
پھر میں لے گئی اس کو ایک ایسی جگہ
جہاں قحط تھا
بچوں کے جسم لباس سے عاری
اور پیٹ اناج سے خالی
سونے کو چھت نہیں
نہ سردی کی لذت
نہ گرمی کی ہیبت
احساس جیسے باقی ہی نہ رہے
ایک اور ایسی جگہ
جہاں زندگی ایک جرم تھی
روز لاشیں گرتیں
عزتیں پامال ہوتیں
ظلم اپنی انتہا پہ
جہاں آتی جاتی سانسوں پہ بھی
شکر تھا کہ سلامت ہیں
پھر میں نے پوچھا
اب بتاؤ کوئی دکھ ہے باقی؟
کہتا ہے نہیں مجھے تو دکھ کے معنی
آج سمجھ آئے ہیں
کہتا ہے ایک دن مجھ سے
بڑا دکھ ہے مجھے
میں نے پوچھا
کس بات کا دکھ؟
کہتا ہے بس کچھ ہے
میں نے پوچھا
کھانا پیٹ بھر کر کھاتے ہو؟
کہتا ہے ہاں
پھر پوچھا
کوئی بیماری تو نہیں؟
کہتا ہے نہیں
پھر پوچھا اعضاء سلامت ہیں؟
کہتا ہے ہاں
سر پہ چھت ہے؟
کہتا ہے ہاں
پھر میں لے گئی اس کو ایک ایسی جگہ
جہاں قحط تھا
بچوں کے جسم لباس سے عاری
اور پیٹ اناج سے خالی
سونے کو چھت نہیں
نہ سردی کی لذت
نہ گرمی کی ہیبت
احساس جیسے باقی ہی نہ رہے
ایک اور ایسی جگہ
جہاں زندگی ایک جرم تھی
روز لاشیں گرتیں
عزتیں پامال ہوتیں
ظلم اپنی انتہا پہ
جہاں آتی جاتی سانسوں پہ بھی
شکر تھا کہ سلامت ہیں
پھر میں نے پوچھا
اب بتاؤ کوئی دکھ ہے باقی؟
کہتا ہے نہیں مجھے تو دکھ کے معنی
آج سمجھ آئے ہیں
عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا
عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا
ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا
آپ کہتے تھے رونے سے نہ بدلیں گے نصیب
عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا
رونے والوں سے کہو اُن کا بھی رونا رو لیں
جن کو مجبورئ حالات نے رونے نی دیا
تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا
تنگئ وقتِ حالات نے رونے نہ دیا
ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکر
ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا
ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا
آپ کہتے تھے رونے سے نہ بدلیں گے نصیب
عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا
رونے والوں سے کہو اُن کا بھی رونا رو لیں
جن کو مجبورئ حالات نے رونے نی دیا
تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا
تنگئ وقتِ حالات نے رونے نہ دیا
ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکر
ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا
Urdu Funny Poetry
سوہنی گھاٹ بدل سکتی تھی
اور کہانی چل سکتی تھی
رانجھا غُنڈے لے آتا تو
ہِیر کی شادی ٹَل سکتی تھی
سَسّی کے بھی اُونٹ جو ہوتے
تھَل میں کَیسے جل سکتی تھی
مرزے نے ، کب سوچا تھا کہ
صاحباں راز اُگَل سکتی تھی
لیلی' کالی پڑھ لِکھ جاتی
فیئر اینڈ لَولی مَل سکتی تھی
جو پتھّر فرہاد نے توڑے
جی ٹی روڈ نکل سکتی تھی
انٹرنیٹ پہلے جو ہوتا
ہِجر کی رات بھی ڈھَل سکتی تھی
اور کہانی چل سکتی تھی
رانجھا غُنڈے لے آتا تو
ہِیر کی شادی ٹَل سکتی تھی
سَسّی کے بھی اُونٹ جو ہوتے
تھَل میں کَیسے جل سکتی تھی
مرزے نے ، کب سوچا تھا کہ
صاحباں راز اُگَل سکتی تھی
لیلی' کالی پڑھ لِکھ جاتی
فیئر اینڈ لَولی مَل سکتی تھی
جو پتھّر فرہاد نے توڑے
جی ٹی روڈ نکل سکتی تھی
انٹرنیٹ پہلے جو ہوتا
ہِجر کی رات بھی ڈھَل سکتی تھی
درویشیں ہار گئی ہوں
درویشیں ہار گئی ہوں
درویشا میں خالی
درویشا میں ہار گئی ہوں
دنیا کالی میں اندر سے خالم خالی
درویشا کوئی ٹونا ، ورد وظیفہ کر
مجھے "م" کرے منظور
مجھے کوئی جاچ سکھا
مرا لوں لوں گھنگرو بن جاوے
مجھے ناچ سکھا
مجھے ایسا ناچ سکھا دے
روح نماز قضا نہ کر پاوے
من یار قضا نہ کر پاوے
یہ کالی دنیا لاکھ کرے تدبیر
فقیر سے یار جدا نہ کر پاوے
مرے درویشا تجھے واسطہ تیرے نینوں کا
جہاں "م" نے ڈیرا ڈالا ہے
ترے دھو دھو پیر پیوں
مجھ کو اُن "مَازَاْغَ البَصَرِیْ" نینوں کا
بس اک جام پلا دے
میں اس دنیا ورگی کالی
وے درویشا میں اندر سے خالم خالی ، نین سوالی
وے میں ہاری تیرے در پر جیتنے آگئی
بھر دے پیاسی روح کی پیالی
میرے خالی پن کو "م" کے رنگ سے بھر دے
وے درویشا تو چمکیلا
روشن ، پیارا ، رنگ رنگیلا
دنیا کالی
اور اک میں اندر سے خالی..!
درویشا میں خالی
درویشا میں ہار گئی ہوں
دنیا کالی میں اندر سے خالم خالی
درویشا کوئی ٹونا ، ورد وظیفہ کر
مجھے "م" کرے منظور
مجھے کوئی جاچ سکھا
مرا لوں لوں گھنگرو بن جاوے
مجھے ناچ سکھا
مجھے ایسا ناچ سکھا دے
روح نماز قضا نہ کر پاوے
من یار قضا نہ کر پاوے
یہ کالی دنیا لاکھ کرے تدبیر
فقیر سے یار جدا نہ کر پاوے
مرے درویشا تجھے واسطہ تیرے نینوں کا
جہاں "م" نے ڈیرا ڈالا ہے
ترے دھو دھو پیر پیوں
مجھ کو اُن "مَازَاْغَ البَصَرِیْ" نینوں کا
بس اک جام پلا دے
میں اس دنیا ورگی کالی
وے درویشا میں اندر سے خالم خالی ، نین سوالی
وے میں ہاری تیرے در پر جیتنے آگئی
بھر دے پیاسی روح کی پیالی
میرے خالی پن کو "م" کے رنگ سے بھر دے
وے درویشا تو چمکیلا
روشن ، پیارا ، رنگ رنگیلا
دنیا کالی
اور اک میں اندر سے خالی..!
Subscribe to:
Posts (Atom)


