وہ جسے

وہ جسے
بھولنے کی کوشش میں
میں نے مصروفیت کو اوڑھا تھا
رات کو ٹوٹتا بدن لے کر
جب گری تھی میں اپنے بستر پہ
اس کی یادوں نے بہت دیر تلک
میرے بالوں میں انگلیاں پھیریں

Comments